حج 2020 اور کورونا وائرس, رواں سال حج کی صورت میں ممکنہ طورپر کن لوگوں کو اجازت ہوگی اور اخراجات میں کتنا اضافہ متوقع ہے؟ خبر

حج 2020 اور کورونا وائرس, رواں سال حج کی صورت میں ممکنہ طورپر کن لوگوں کو اجازت ہوگی اور اخراجات میں کتنا اضافہ متوقع ہے؟ خبر

لاہور(تازہ ترین - 8 جون 2020) حج 2020 محدود اور علامتی ہونے کا امکان دنیا بھر سے حاجیوں کو بلانے کی بجائے حج مقامی سعودیوں تک محدود کرنے کا فیصلہ، پاکستان سے سرکاری سکیم کے حج کے امکانات بھی مخدوش 15 دن بعد حج آپریشن شروع ہوناہے پاکستان سے صرف پرائیویٹ سکیم کے حج کا 50 فیصد امکان باقی رہ گیا اگر سعودی عرب نے کسی ملک سے چند ہزار حاجیوں کو اجازت دی تو وہ ملک پاکستان ہو سکتا ہے ذرائع کا دعویٰ، سعودی ذرائع کا تصدیق سے انکار 15 جون تک سعودی عرب حتمی فیصلہ کرے گا انتظار کیا جائے۔

سعودی عرب کی طرف سے VAT ٹیکس 5 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کے بعد وزارت مذہبی امور کو حج 2020 کے پیکیج کی رقم میں حج 2021 کرنے کی تجویز بھی مشکل نظر آنے لگی، وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے ٹی وی پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ سوچ رہے ہیں اگر سرکاری سکیم کا حج اس سال نہیں ہوتا تو رقم واپس نہ لینے والوں کو انہیں پیسوں میں اگلے سال حج کی سہولت دے دی جائے ”روزنامہ پاکستان“ کو معلوم ہوا تھا وزارت مذہبی امور نے وفاقی کابینہ کیلئے سفارشات تیار کی تھیں اس دوران سعودی عرب نے VAT ٹیکس 10 فیصد بڑھا دیا ہے جس کی وجہ سے ائیر لائنز کی ٹکٹ اور دیگر اخراجات میں 50 ہزار تک اضافہ متوقع ہے وزارت نے خاموشی اختیار کر لی ہے انڈیا کی طرف سے اپنے حاجیوں کو مکمل رقوم کی واپسی کے فیصلے کے بعد وزارت میں دوبارہ سر گرمیاں شروع ہو گئیں معلوم ہوا ہے۔

پاکستان سے بھی سرکاری سکیم کے 600 سے زائدافراد حج پیکیج کی رقم واپس لے چکے ہیں کئی سو افراد معلومات حاصل کر رہے ہیں دینا بھر کی طرح سعودیہ میں بھی کرونا کی وباء  کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہے رمضان کے بعد سے اب تک طواف تک شروع نہیں ہو سکا۔ منیٰ، عرفات، مزدلفہ میں تیاریاں کرفیو کی وجہ سے سست روی کا شکارہیں معلوم ہوا ہے خادم حرمین شریفین کے سامنے مختلف تجاویز پیش کی گئی تھیں جو حج آپریشن میں کم وقت کی وجہ سے ایک ایک کر کے ختم ہورہی ہیں۔ کہا جا رہا ہے یکم ذولقعدہ تک حتمی فیصلہ متوقع ہے دنیابھر سے یکم ذولقعدہ سے پہلے حاجی سعودی عرب آنا شروع ہو جاتے ہیں چائنہ کے حاجی تو 20 شوال سے پہلے آجاتے ہیں حج 2020 میں دنیا بھر سے ہمیشہ کی طرع لاکھوں افراد کو بلانے کے امکانات ختم ہو گئے ہیں آخری تجویز ہے قریبی ممالک سے شارٹ حج کے 40 فی صد حاجی بلا لیے جائیں ان کیلئے جاری کیا گیا ایس او پیز قابل عمل نظر نہیں آرہا ہے حتمی فیصلہ خادم حرمین شریفین نے کرنا ہے حج میں کتنے افراد شریک ہوں گے کہا ں کہاں سے ہوں گے ہر آنے والے دن میں امکانات کم ہو رہے ہیں ۔

ذرائع نے دعویٰ کیا ہے حج 2020 سعودی عرب کے مقامی افراد تک محدود ہو گا کیونکہ سعودی افراد منیٰ میں نہیں ٹھرتے براہ راست عرفات جاتے ہیں خطبہ سن کر واپس آجاتے ہیں سعودی ذرائع تصدیق نہیں کر رہے۔ دلچسپ بات یہ ہے سعودی ائیر لائنز نے 15 جولائی تک کی تمام حج فلائٹس کینسل کر دی ہیں۔ ہوپ کے ذرائع یقین کے ساتھ دعویٰ کر رہے ہیں پاکستان سے اس سال صرف پرائیویٹ حج سکیم کے لوگ جائیں گے سعودی عرب شارٹ حج کی اجازت دے گا۔وزارت مذہبی امور ہوپ کے دعویٰ کی تصدیق نہیں کر رہا ان کا کہنا ہے ہم تو ایک لاکھ 7 ہزار افراد سے رقم لے چکے ہیں ہمیں ان کا کوئی پتہ نہیں ہے اور کسی کا کیا بتائیں۔ پاکستان سے حج نہ ہونے کی وجہ سے سرکاری سکیم اور پرائیویٹ سکیم کو کروڑوں کے نقصان کے ساتھ ائیرلائنز کو کروڑوں روپے کے خسارے کا خدشہ ہے،پرائیویٹ حج سکیم کے ساتھ ٹریول ٹریڈ کے دیوالیہ ہونے سے امکانات بڑھ گئے ہیں۔